Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
426 - 764
والیوں  سے بہتر ہوں ۔} شانِ نزول: آیت ِمبارکہ کے اس حصے کے نزول سے متعلق دو رِوایات درج ذیل ہیں،
(1)…حضر ت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :یہ آیت رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُنَّ کے متعلق نازل ہوئی ہے،انہوں  نے حضرت ِاُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  کوچھوٹے قد کی وجہ سے شرمندہ کیا تھا۔
(2)… حضرت عبداللہ بن عبا س رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : آیت کا یہ حصہ اُمُّ المومنین حضرت صفیہ بنت حُیَی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا کے حق میں  اس وقت نازل ہوا جب انہیں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک زوجۂ مُطَہَّرہ نے یہودی کی بیٹی کہا۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۶۹)
	اس واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : اُمُّ المومنین حضرت صفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا کو معلوم ہوا کہ حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے انہیں  یہودی کی لڑکی کہا ہے،(اس پر انہیں  رنج ہوا اور)آپ ر ونے لگیں  ، جب سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں  روتا ہوا پایا تو ارشاد فرمایا’’تم کیوں  رو رہی ہو؟عرض کی:حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے مجھے یہودی کی لڑکی کہا ہے۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا ’’ تم نبی زادی ہو،تیرے چچا نبی ہیں  اور نبی کی بیوی ہو ،توتم پر وہ کیا فخر کرتی ہیں  اور حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے فرمایا’’ اے حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل ازواج النّبی، ۵/۴۷۴، الحدیث: ۳۹۲۰)
	نوٹ: آیت ِمبارکہ میں  عورتوں  کا جداگانہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ عورتوں  میں  ایک دوسرے کامذاق اُڑانے اوراپنے آپ کوبڑاجاننے کی عادت بہت زیادہ ہوتی ہے ،نیز آیت ِمبارکہ کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ عورتیں  کسی صورت آپس میں  ہنسی مذاق نہیں کر سکتیں  بلکہ چند شرائط کے ساتھ ان کا آپس میں  ہنسی مذاق کرنا جائز ہے ،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (عورتوں  کی ایک دوسرے سے) جائز ہنسی جس میں  نہ فحش ہو نہ ایذائے مُسلم،نہ بڑوں  کی بے ادبی،نہ چھوٹوں سے بد لحاظی،نہ وقت و محل کے نظر سے بے موقع،نہ اس کی کثرت اپنی ہمسر عورتوں  سے جائز ہے۔( فتاوی رضویہ، ۲۳/۱۹۴)