Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
425 - 764
حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کی ماں  کا نام لے کر کہا: فلانی کا لڑکا۔ اس پر اس شخص نے شرم سے سرجھکالیا کیونکہ اس زمانے میں  ایسا کلمہ عار دلانے کے لئے کہا جاتا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(2)… حضر ت ضحاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں  نازل ہوئی جو حضرت عمار،حضرت خباب ،حضرت بلا ل ،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی غُربَت دیکھ کر ان کا مذاق اُڑایاکرتے تھے ۔ ان کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد     مَردوں  سے نہ ہنسیں  ،یعنی مال دار غریبوں  کا ، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا مذاق نہ اُڑائیں  جس کی آنکھ میں  عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں  سے صدق اور اخلاص میں  بہتر ہوں ۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۶۹)
کسی شخص میں  فقر کے آثار دیکھ کر اس کا مذاق نہ اُڑایا جائے :
	آیت کے دوسرے شانِ نزول سے معلوم ہو اکہ اگر کسی شخص میں  فقر،        محتاجی اور غریبی کے آثار نظر آئیں  تو ان کی بنا پرا س کا مذاق نہ اڑایا جائے ،ہو سکتا ہے کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والے کے مقابلے میں  دینداری کے لحاظ سے کہیں  بہتر ہو۔
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کتنے ہی لوگ ایسے ہیں  جن کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہوتے ہیں  ،ان کے پاس دو پُرانی چادریں  ہوتی ہیں  اور انہیں  کوئی پناہ نہیں  دیتا (لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ان کا رتبہ ومقام یہ ہوتا ہے کہ) اگروہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں  (کہ اللہ تعالیٰ فلاں  کام کرے گا) تو اللہ تعالیٰ (وہ کام کر کے) ان کی قسم کو سچا کر دیتا ہے۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب البراء بن مالک رضی اللّٰہ عنہ، ۵/۴۵۹، الحدیث: ۳۸۸۰)
	حضر ت حارث بن وہب خزاعی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں  تمہیں  جنتی لوگوں  کے بارے میں  نہ بتاؤں ؟یہ ہر وہ شخص ہے جو کمزور اور (لوگوں  کی نگاہوں  میں ) گرا ہو اہے ،اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی قسم سچی کر دے گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، ۱۳-باب، ۴/۲۷۲، الحدیث: ۲۶۱۴)
{وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ: اور نہ عورتیں  دوسری عورتوں  پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے