ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ: اے ایمان والو !مرد دوسرے مَردوں پر نہ ہنسیں ۔} شانِ نزول: اس آیت ِمبارکہ کے مختلف حصوں کا نزول مختلف واقعات میں ہوا ہے اورآیت کے زیرِ تفسیر حصے کے نزول سے متعلق دو واقعات درج ذیل ہیں
(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضرت ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اونچا سنتے تھے ، جب وہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ انہیں آگے بٹھاتے اور اُن کے لئے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب حاضر رہ کر کلام مبارک سن سکیں ۔ایک روز انہیں حاضری میں دیر ہوگئی اور جب مجلس شریف خوب بھر گئی اس وقت آپ تشریف لائے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت آتا اور مجلس میں جگہ نہ پاتا تو جہاں ہوتا وہیں کھڑا رہتا۔لیکن حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ آئے تو وہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب بیٹھنے کے لئے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ’’ جگہ دو جگہ‘‘ یہاں تک کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ اُن کے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیان میں صرف ایک شخص رہ گیا، انہوں نے اس سے بھی کہا کہ جگہ دو، اس نے کہا: تمہیں جگہ مل گئی ہے ا س لئے بیٹھ جائو ۔حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ غصّہ میں آکر اس کے پیچھے بیٹھ گئے ۔ جب دن خوب روشن ہوا توحضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کا جسم دبا کر کہا: کون؟ اس نے کہا: میں فلاں شخص ہوں ۔