Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
422 - 764
’’ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘‘(حدید:۱۰)
اور اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرو گے۔
	اس کے باوجود اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ تم سب سے بے عذاب جنت اور بے حساب کرامت و ثواب کا وعدہ فرماچکا ہے، تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر اعتراض کرے، کیا اعتراض کرنے والا ، اللہ تعالیٰ سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، اس بیان کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں  جائے۔( فتاوی رضویہ، ۲۹/۳۵۷-۳۶۳، ملخصاً)
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں  تو اپنے دو بھائیوں  میں  صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں  تو اپنے دو بھائیوں  میں  صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔} ارشاد فرمایا :مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں  کیونکہ یہ آپس میں  دینی تعلق اورا سلامی محبت کے ساتھ مَربوط ہیں  اوریہ رشتہ تمام دُنْیَوی رشتوں  سے مضبوط تر ہے ،لہٰذاجب کبھی دو بھائیوں  میں  جھگڑا واقع ہو تو ان میں  صلح کرادو اور اللہ تعالیٰ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا ایمان والوں  کی باہمی محبت اور اُلفت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ا س پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۱۶۸، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۱۵۳، ملتقطاً)
مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں 3 اَحادیث :
	یہاں  آیت کی مناسبت سے مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  3اَحادیث ملاحظہ ہوں ،