راہ میں خرچ کیا اور جہا دمیں حصہ لیا۔ ان ایمان والوں نے اس وقت اِس اخلاص کا ثبوت مالی اور جنگی جہاد سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرتِ تعداد اور جاہ و مال، ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے۔ اجر اِن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُن سابقون اَوّلون والوں کے درجہ کا نہیں ،اسی لیے قرآنِ عظیم نے اُن پہلوں کو اِن بعد والوں پرفضیلت دی اور پھر فرمایا:
’’وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى‘‘
ان سب سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا،
کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے سب ہی کو اجر ملے گا، محروم کوئی نہ رہے گا۔اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے:
’’اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۱)
وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں ۔
’’لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا‘‘(انبیاء:۱۰۲)
وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے۔
’’وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۲)
وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے۔
’’لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ‘‘(انبیاء:۱۰۳)
قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی۔
’’وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ‘‘(انبیاء:۱۰۳)
فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔
’’هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۳)
یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عَزَّوَجَلَّ بتاتا ہے ،تو جو کسی صحابی پر اعتراض کرے وہ اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے،اور ان کے بعض معاملات کوجن میں اکثر جھوٹی حکایات ہیں ،اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مقابل پیش کرنا اہلِ اسلام کا کام نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ ِحدید کی اسی آیت میں اس کا منہ بھی بند کردیا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے دونوں گروہوں سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا: