سکتے ہیں اوران میں صورۃً جو تنازعات اور اختلافات واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ہیں ؟ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک کی طرف داری میں دوسرے کو برا کہنے لگیں ، یا ان جھگڑوں میں ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں ، بلکہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ سب دین کی مَصلحتوں کے طلبگار تھے،اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی ان کا نَصبُ العَین تھی، پھر وہ مُجتہد بھی تھے ،توجس کے اجتہاد میں جو بات اللہ تعالیٰ کے دین اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت کے لیے زیادہ مَصلحت آمیز اور مسلمانوں کے اَحوال سے مناسب ترمعلوم ہوئی،اس نے اسے اختیار کیا، اگرچہ اجتہاد میں خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں اور سب واجبُ الاحترام ہیں ، ان کا حال بالکل ایسا ہے جیسا دین کے فروعی مسائل میں خود علماءِ اہلسنت بلکہ ان کے مُجتہدین مثلاً امامِ اعظم ابوحنیفہ اور امامِ شافعی وغیرہما رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے اختلافات ہیں ۔
(6)…مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان جھگڑوں کے سبب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں ایک دوسرے کو نہ گمراہ فاسق جانیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کے دشمن ہوں بلکہ مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ آقائے دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں ، اللہ تعالیٰ او ر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہوں میں مُعَظَّم و مُعَزَّز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں ۔
(7)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بارے میں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ انبیاء اورفرشتے نہ تھے کہ گناہ سے معصوم ہوں ، ان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے اَحکام کے خلاف ہے۔
(8)…اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورہ ٔحدید میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی دو قِسمیں بیان فرمائی ہیں ،(1) مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ۔(2) اَلَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا۔
یعنی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی ایک قسم وہ ہے کہ فتح ِمکہ سے پہلے مُشَرَّف بایمان ہوئے ،اس وقت راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب ان کی تعداد بھی بہت کم تھی اور وہ ہر طرح کمزور بھی تھے، انہوں نے اپنے اوپر شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال ڈال کر بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا، یہ حضرات مہاجرین و اَنصار میں سے سابقین اَوّلین ہیں ۔دوسری قسم وہ ہے کہ فتحِ مکہ کے بعدایمان لائے، اللہ تعالیٰ کی