(2)…اورحضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کسی مظلوم کے ساتھ اس کی مدد کرنے چلے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدمی عطا فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے۔( حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، ۶/۳۸۳، الحدیث: ۹۰۱۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مظلوم کی حمایت اور مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق8اَہم باتیں :
اس آیت کے شانِ نزول میں (اگرچہ جھگڑے میں کچھ منافق بھی شریک تھے لیکن) اہلِ ایمان کے اختلاف کا بھی ذکر ہوا ،اسی مناسبت سے یہاں صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام سے8اَہم باتوں کا خلاصہ ملاحظہ ہو،
(1)… تابعین سے لے کر قیامت تک امت کا کوئی بڑے سے بڑ اولی کسی کم مرتبے والے صحابی کے رتبہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔
(2)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو قرب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے امتی کو مُیَسَّر نہیں اور جو بلند درجات یہ پائیں گے وہ کسی اور امتی کو نہ ملیں گے۔
(3)…اہلسنّت کے خواص اور عوام پہلے سے آخری درجے تک کے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو انتہاء درجے کا نیک اور متقی جانتے ہیں اور ان کے اَحوال کی تفاصیل کہ کس نے کس کے ساتھ کیاکیا اور کیوں کیا،اس پر نظر کرنا حرام مانتے ہیں ۔
(4)… اگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے کسی کا کوئی ایسا فعل منقول ہے جو کم نظر کی آنکھ میں ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ہو اور اس میں کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ملے تو (اس کے بارے میں اہلسنت کے علماء اور عوام کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ) اس کا اچھا مَحمل بیان کرتے ہیں ، اسے ان کے قلبی اخلاص اور اچھی نیت پر محمول کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا سچا فرمان ’’رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ‘‘ سن کر دل کے آئینے میں تفتیش کے زنگ کو جگہ نہیں دیتے اور حقیقی اَحوال کی تحقیق کے نام کا میل کچیل، دل کے آئینے پر چڑھنے نہیں دیتے۔
(5)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے رتبے ہماری عقل سے وراء ہیں ،پھر ہم اُن کے معاملات میں کیسے دخل دے