فرمایا’’ مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا۔( شعب الایمان،التاسع والاربعون من شعب الایمان... الخ، فصل فی ذکر ماورد من التشدید... الخ، ۶/۴۹، الحدیث: ۷۴۶۴)
(3)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم ہو تو وہ آج ہی اس سے معافی لے لے، اس سے پہلے کہ(وہ دن آجائے جب) اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم،(اس دن) اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو ظلم کے مطابق اس سے چھین لیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے ۔( بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل... الخ، ۲/۱۲۸، الحدیث: ۲۴۴۹، مشکاۃ المصابیح، کتاب الآدب، باب الظّلم، الفصل الاول، ۲/۲۳۵، الحدیث: ۵۱۲۶)
اس سے معلوم ہوا کہ معاشرتی امن کو قائم کرنے اور اس کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ’’ظلم‘‘ کو ختم کرنے میں اسلام کا کردار سب سے زیادہ ہے اور اس کی کوششیں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کارگَر ہیں کیونکہ جب لوگ ظالم کو ظلم کرنے سے روک دیں گے تو وہ ظلم نہ کر سکے گا اور ظالم جب اتنی ہَولْناک وعیدیں سنے گا تواس کے دل میں خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں اس کی مدد کرے گا، یوں معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پُرلُطف باغ بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
مظلوم کی حمایت اور فریاد رَسی کرنے کے دو فضائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے مظلوم کی حمایت کرنے اور اس کی فریاد رسی کرنے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے 73مغفرتیں لکھے گا، ان میں سے ایک سے اس کے تمام کاموں کی درستی ہوجائے گی اور 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں گے۔( شعب الایمان، الثالث والخمسون من شعب الایمان... الخ، ۶/۱۲۰، الحدیث: ۷۶۷۰)