حرام ہو چکی ہے اور صرف صلح کر لینے سے یہ حرام حلال نہیں ہو سکتا، تو ان کا یہ صلح کرواناحرام کو حلال کرنے کی کوشش کرنا ہے اور یہ ہر گز جائز نہیں ہے اور ایسی صلح کروانے والے خود بھی گناہگار ہوں گے اور اس صلح کے بعد وہ مرد و عورت شوہر اور بیوی والا جوتعلق قائم کریں گے ا س کا گناہ انہیں بھی ہو گا کیونکہ ان کے لئے اب وہ تعلق قائم کرنا حرام ہے اور یہ چونکہ حرام کام میں ان کی مدد کر رہے اور اس کی ترغیب دے رہے ہیں تواس کے گناہ میں یہ بھی شریک ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کرنے میں دین ِاسلام کا کردار :
ظلم ایک ایسا بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اوریہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم لیتے ، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کاا من و سکون تباہ ہو کر رہ جاتا ہے،دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کاسب سے زیادہ حامی ہے اسی لئے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں میں ظلم کا کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اس لئے اسلام نے ظلم کے خاتمے کیلئے بھی انتہائی احسن اِقدامات کئے ہیں تاکہ لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں اور وہ امن و سکون کی زندگی بسر کریں ،ان میں سے ایک اِقدام لوگوں کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ ظالم کو روکیں اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم سے باز آجائے، جیسا کہ درج ذیل تین اَحادیث سے واضح ہے ،چنانچہ
(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی مدد کر وخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں ؟ارشاد فرمایا ’’اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔( بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ... الخ، ۴/۳۸۹، الحدیث: ۶۹۵۲)
(2)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد