Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
416 - 764
	اور ارشاد فرماتا ہے : ’’لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا‘‘(النساء:۱۱۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اُن کے اکثرخفیہ مشوروں  میں کوئی بھلائی نہیں  ہوتی مگر ان لوگوں  (کے مشوروں ) میں  جو صدقے کا یا نیکی کا یا لوگوں  میں  باہم صلح کرانے کا مشورہ کریں اور جو اللہ کی رضامندی تلاش کرنے کے لئے یہ کام کرتا ہے تواسے عنقریب ہم بڑا ثواب عطا فرمائیں  گے۔
	حضرت ِاُمِّ کلثوم بنت عقبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جھوٹا نہیں  جو لوگوں  کے درمیان صلح کرائے کہ اچھی بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔( بخاری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس، ۲/۲۱۰، الحدیث: ۲۶۹۲)
	حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں  تمہیں  ایسا کام نہ بتاؤں  جو درجے میں  روزے ،نماز اور زکوٰۃ سے بھی افضل ہو،صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیوں  نہیں ۔ارشاد فرمایا: ’’آپس میں  صلح کروا دینا۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات البین، ۴/۳۶۵، الحدیث: ۴۹۱۹)
	البتہ یاد رہے کہ مسلمانوں  میں  وہی صلح کروانا جائز ہے جو شریعت کے دائرے میں  ہو جبکہ ایسی صلح جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں  ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مسلمانوں  کے مابین صلح کرواناجائز ہے مگر وہ صلح (جائز نہیں ) جو حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرام کر دے۔( ابو داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فی الصلح، ۳/۴۲۵، الحدیث: ۳۵۹۴)
	اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جوعورت کو تین طلاقیں ہو جانے کے باوجود شوہر اور بیوی سے یہ کہتے ہیں  کہ کوئی بات نہیں  ،تم سے جو غلطی ہوئی اسے اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا ا س لئے تم اب آپس میں  صلح کر لو، حالانکہ تین طلاقوں  کے بعد وہ عورت اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَحکام کے مطابق اپنے شوہر پر