آیت ’’وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے پانچ باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… جنگ و جِدال گناہ ہے، مگر یہاں دونوں فریقوں کو مومن فرمایا گیا،اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کفر نہیں ہے۔
(2)… مسلمانوں میں صلح کرانا حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت اور اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔
(3)…غلط فہمی کی وجہ سے بادشاہِ اسلام کی مخالفت یا اس سے جنگ کرنے والا کافر اور فاسق نہیں بلکہ مومن ہے۔
(4)… سلطانِ اسلام باغیو ں سے جنگ کرے یہاں تک کہ وہ اپنی بغاوت سے باز آ جائیں ۔
(5)… یہ جنگ جہاد نہ ہوگی، نہ ان باغیوں کا مال غنیمت ہو گا،نہ ان کے قیدی لونڈی غلام بنائے جائیں گے بلکہ ان کا زور توڑ کران سے برادرانہ سلوک کیا جائے گا۔
مسلمانوں میں صلح کروانے کے فضائل:
قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ میں بکثرت مقامات پر مسلمانوں کو آپس میں صلح صفائی رکھنے اوران کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا گیا اور اس کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ‘‘(النساء:۱۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہوتو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے :
’’ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ‘‘(انفال:۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے محبوب!تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہواور آ پس میں صلح صفائی رکھو۔