{وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور اگر کافر تم سے لڑیں گے۔} یعنی اہلِ مکہ اگر صلح کرنے کی بجائے جنگ کرتے یا اہلِ خیبرکے حلیف قبیلہ اسد اورقبیلہ غطفان کے لوگ تم سے جنگ کرنے کی ہمت کریں تویہ لوگ تمہارے مقابلے میں ضرور پیٹھ پھیرکربھاگ جا ئیں گے ،تم ہی ان پر غالب آؤ گے اور انہیں شکست ہو گی،پھر وہ اپناکوئی حمایتی اور مددگارنہ پائیں گے۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴/۱۵۴، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۱۱۴۵، ملتقطاً)بعض علماء فرماتے ہیں کہ اگر اب بھی مسلمان صحیح مسلمان ہو کر یعنی صحیح طریقے سے اسلامی احکام پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جنگ کریں تو بدروحُنَین کے نظارے نظر آسکتے ہیں ۔
سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۚۖ-وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کا دستور ہے جو پہلے لوگوں میں گزرچکا ہے اور تم ہرگزاللہ کے دستورمیں تبدیلی نہ پاؤ گے۔
{سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ: اللہ کا دستور ہے جو پہلے لوگوں میں گزرچکا ہے۔} ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ ایمان والوں کی مددفرماتا اورکافروں پرقہرفرماتاہے جیسا کہ گزشتہ امتوں کے حالات سے ظاہر ہے اور تم ہرگزاللہ تعالیٰ کے اس دستورمیں تبدیلی نہ پاؤ گے،یعنی یہ کبھی نہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں ایمان والوں کی مدد بلاوجہ نہ فرمائے، اگر کبھی مسلمان شکست کھا جائیں تو یا ان کی اپنی غلطی ہو گی یا اس میں اللہ تعالیٰ کی خا ص حکمت ہو گی اور یہ شکست بھی عارضی ہو گی۔اس سے معلوم ہوا کہ بہت دفعہ مسلمانوں کا مغلوب ہو جانا اس آیت کے خلاف نہیں ہے اور کافروں کے غلبے کو بنیاد بنا کر اس آیت پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا(۲۴)