اس کے فضل کی امید رکھنی چاہئے اور ا س کے عدل سے ڈرنا چاہئے ۔
(4)…جو لوگ کافر ہیں اور کسی صورت اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لانے پر تیار نہیں اور وہ اسی حال میں مر جاتے ہیں ، یونہی جو شخص زندگی میں مسلمان رہا لیکن اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہوا ، ان کی مغفرت کی کوئی صورت ہی نہیں ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ہی جائیں گے۔ لہٰذا کافرتو دین ِاسلام میں داخل ہو جائیں اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرے۔
سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْۚ-یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِؕ-قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُۚ-فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَاؕ-بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے جب تم غنیمتیں لینے چلو تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں تم فرماؤ ہرگز تم ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا ہے تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے ان کی طرف چلو گے توپیچھے رہ جانے والے کہیں گے : ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔ تم فرماؤ: ہرگز ہمارے پیچھے نہ آؤ۔ اللہ نے پہلے سے اسی طرح فرمادیاہے، تو اب کہیں گے: بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو بلکہ وہ منافق بہت تھوڑی بات سمجھتے ہیں ۔
{سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ: پیچھے رہ جانے والے کہیں گے۔} جب مسلمان حُدَیْبِیَہ کی صلح سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے خیبر کی فتح کا وعدہ فرمایا اور وہاں سے حاصل ہونے والے غنیمت کے اَموال حدیبیہ میں حاضر ہونے والوں کے لئے خاص کر دئیے گئے ، جب خیبر کی طرف روانہ ہونے کا وقت آیا تو مسلمانوں کو یہ خبر دی گئی کہ جو لوگ