اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گیا اور ان کی قوت و کثرت ان کے کچھ کام نہ آئی اور تم تو ان کے مقابلے میں کمزور اور عاجز ہو اس لئے تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔(خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۴/۱۲۸-۱۲۹، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۸/۴۸۳-۴۸۴، تفسیر کبیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱۰/۲۶، ملتقطاً)
وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۲۷)فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةًؕ-بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْۚ-وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے ہلاک کردیں تمہارے آس پاس کی بستیاں اور طرح طرح کی نشانیاں لائے کہ وہ بازآئیں ۔تو کیوں نہ مدد کی ان کی جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا بلکہ وہ اُن سے گم گئے اور یہ اُن کا بہتان و افترا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور(اے اہلِ مکہ!) بیشک ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیوں کو ہلاک کردیا اور بار بار نشانیاں لائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔ تو جن بتوں کو قرب حاصل کرنے کیلئے اللہکے سوامعبود بنارکھا تھا انہوں نے ان کافروں کی مدد کیوں نہیں کی بلکہ وہ ان سے گم گئے اور یہ ان کا بہتان تھا اور جووہ گھڑتے رہتے تھے۔
{وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى: اور بیشک ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیوں کو ہلاک کردیا۔} یہاں سے قومِ عاد اور ثمود وغیرہ کی اجڑی ہوئی بستیوں ، ان کی تباہی اور ان میں رہنے والوں کی ہلاکت کے سبب کی طرف اشارہ کر کے کفارِ مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے اہلِ مکہ! تمہارے آس پاس عاد اور ثمود وغیرہ کی اجڑی ہوئی بستیاں موجود ہیں اور جب تم یمن اور شام کا سفر کرتے ہوتو راستے میں ان تباہ شدہ بستیوں کو دیکھتے ہو،کبھی تم نے ان کی تباہی وبربادی کاسبب تلاش کیاہے کہ آخرکس وجہ سے وہ بستیاں تباہ ہو گئیں