Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
261 - 764
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِؕ-وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان:  یہ ہیں  وہ جن کی نیکیاں  ہم قبول فرمائیں  گے اور ان کی تقصیروں  سے درگزر فرمائیں  گے جنت والوں  میں  سچا وعدہ جو اُنہیں  دیا جاتا تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  یہی وہ لوگ ہیں  جن کے اچھے اعمال ہم قبول فرمائیں  گے اور ان کی خطاؤں  سے درگزر فرمائیں  گے، یہ لوگ جنت والوں  میں سے ہوں  گے۔یہ سچا وعدہ ہے جو اِن سے کیا جاتا تھا۔
{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا: یہی وہ لوگ ہیں  جن کے اچھے اعمال ہم قبول فرمائیں  گے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت میں  بیان کئے گئے وصف کے حامل وہ لوگ ہیں  جن کے دنیا میں  کئے ہوئے اچھے اعمال قبول فرما کرہم ان پر ثواب دیں  گے اور ان کی خطاؤں  سے درگُزر فرماکر ان سے کوئی مُواخذہ نہیں  فرمائیں  گے ، یہ لوگ جنت والوں  میں  سے ہیں ، یہ سچا وعدہ ہے جو دنیا میں  ان سے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ مبارک سے کیا جاتا تھا۔(جلالین مع صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۶، ۵/۱۹۳۷، تفسیرکبیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۶، ۱۰/۲۰-۲۱، خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴/۱۲۶، ملتقطاً)
وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَ جَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْۚ-وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ ﳓ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ