Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
252 - 764
	تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اور مومنین کے ساتھ کیا کرے گا۔( خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۱۲۳)
	دوسری صورت یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنا بھی معلوم ہے ، مومنین کا بھی اورجھٹلانے والوں  کا بھی ،اور اس آیت کے معنی یہ ہیں  ’’ دنیا میں  کیا کیا جائے گا، یہ معلوم نہیں ‘‘ اگر آیت کے یہ معنی لئے جائیں  تو بھی یہ آیت منسوخ ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ بھی بتادیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ‘‘( توبہ:۳۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ اسے تمام دینوں  پر غالب کردے۔
	اورارشاد فرمایا:
’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ‘‘(انفال:۳۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ کی یہ شان نہیں  کہ انہیں  عذابدے جب تک اے حبیب! تم ان میں  تشریف فرما ہو۔( خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۱۲۳، خزائن العرفان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ص۹۲۴)
	یہاں  اس آیت کے منسوخ ہونے کے بارے میں  جو تفصیل بیان کی اسے دوسرے انداز میں  یوں  بیان کیا گیا ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمانا ’’وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ‘‘ قرآنِ مجید کا نزول مکمل ہونے سے پہلے کی بات ہے ،ا س لئے یہاں  فی الحال جاننے کی نفی ہے۔ آئندہ اس کا علم حاصل نہ ہونے کی نفی نہیں  ہے۔ چنانچہ علامہ احمدصاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :یہ آیت اسلام کے ابتدائی دور میں  ،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مومنین اور کفارکا انجام بیان کئے جانے سے پہلے نازل ہوئی، ورنہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا س وقت تک دنیا سے تشریف نہ لے گئے یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  قرآنِ مجید میں  اِجمالی اور تفصیلی طور پر وہ سب کچھ بتا دیا جو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مومنین اور کفار کے ساتھ کیا جائے گا۔( صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۵/۱۹۳۳-۱۹۳۴)