Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
216 - 764
اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا رب محتاج ہوگیا۔ (مَعَاذَاللہ تَعَالٰی  ) اس کی یہ بات سن کر حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے تلوار کھینچی اور اس کی تلاش میں  نکلے ، لیکن حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آدمی بھیج کر انہیں  واپس بلوالیا۔(تفسیرکبیر،الجاثیۃ،تحت الآیۃ: ۱۴،  ۹/۶۷۳-۶۷۴، مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۱۱۱۸، جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۴۱۳، ملتقطاً)
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا٘-ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: جو بھلا کام کرے تو اپنے لیے اور بُرا کرے تو اپنے بُرے کو پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو نیک کام کرے تو اپنی ذات کیلئے (ہی کرتا ہے)اور جوبرائی کرے تو وہ اسی پر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔
{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ: جو نیک کام کرے تو اپنی ذات کیلئے۔} یعنی جو شخص ایسے نیک کام کرے جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا مقصود ہو تو وہ اپنی ذات کیلئے ہی کرتا ہے کہ ان نیک اعمال کا فائدہ اور ثواب اسے ہی ملے گااور جوبرے کام کرے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے کہ وہی اپنے برے کاموں  کا نقصان اورعذاب برداشت کرے گا ،پھر تم مرنے کے بعد اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے جو تمہارے تمام اُمور کا مالک ہے، وہ نیکوں  اور بدوں  کو اُن کے اعمال کی جزا دے گا لہذا تم اس ملاقات کی تیاری کرو۔( روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۸/۴۴۲)
ہر شخص اپنے اعمال اور انجام پرغور کرے:
	اس آیت میں  نیک اعمال کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور برے اعمال کرنے سے ڈرایا بھی گیا ہے لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال اور ان کے انجام پر غور کرے ،اگر کوئی نفس و شیطان کے بہکاوے میں  آ کر برے اعمال میں  مصروف تو اسے چاہئے کہ برے اعمال سے سچی توبہ کر کے نیک اعمال شروع کر دے تاکہ ان کی سزا سے بچ سکے اور جو برے اعمال سے بچتے ہوئے نیک اعمال میں  مشغول ہو تو اسے چاہئے کہ مزید نیک اعمال کرے تاکہ آخرت