Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
213 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ وہی ہے جس نے دریا کوتمہارے تابع کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں  کشتیاں  چلیں  اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اورتاکہ تم شکرگزار بن جاؤ۔
{اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ: اللہ وہی ہے جس نے دریا کوتمہارے تابع کردیا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے دریاؤں  کی تسخیر کے ذریعے اپنی وحدانیت اور قدرت پر استدلال فرمایا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! معبود ہونا اسی کے لائق اور شایانِ شان ہے جس نے دریا کوتمہارے تابع کردیا اور اس تابع کرنے میں  حکمتیں  یہ ہیں  کہ اس کے حکم سے دریا میں  کشتیاں  چلیں  اور تم دریائی سفر کے ذریعے تجارت کر کے اور دریاؤں  میں  غوطہ زنی کے ذریعے موتی وغیرہ نکال کراس کا فضل تلاش کرو اور تم اللہ تعالیٰ کی نعمت و کرم اور فضل و احسان کاشکر ادا کر کے اس کا حق مانو ،لہٰذا تم صرف اسی کی عبادت کرو اور جس کام کا اس نے تمہیں  حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے منع کیا ہے ا س سے باز آجاؤ۔( تفسیرطبری، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۱/۲۵۵، روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸/۴۳۹-۴۴۰، ملتقطاً)
وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے لیے کام میں  لگائے جو کچھ آسمانوں  میں  ہیں  اور جو کچھ زمین میں  اپنے حکم سے بے شک اس میں  نشا نیاں  ہیں  سوچنے والوں  کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کچھ آسمانوں  میں  اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اپنی طرف سے تمہارے کام میں  لگادیا، بے شک اس میں  سوچنے والوں  کے لئے نشا نیاں  ہیں ۔
{وَ سَخَّرَ لَكُمْ: اور تمہارے کام میں  لگادیا۔} یعنی اے لوگو! جو کچھ آسمان میں  ہے جیسے سورج چاند اور ستارے اور جو کچھ زمین میں ہے جیسے جانور،درخت، پہاڑ اور کشتیاں  وغیرہ سب کا سب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے تمہارے