Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
125 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں  کی) ایک جماعت ہوجائیں  گے تو ہم ضرور رحمن کے منکروں  کے لیے ان کے گھروں  کی چھتیں  اور سیڑھیاں  چاندی کی بنا دیتے جن پر وہ چڑھتے۔ اور ان کے گھروں  کے لیے (چاندی کے) دروازے اور تخت بنادیتے جن پر وہ تکیہ لگاتے۔ اور(یہ چیزیں  ان کیلئے)سونا(بھی بنادیتے) اوریہ جو کچھ ہے سب دنیاوی زندگی ہی کا سامان ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں  کے لیے ہے۔
{وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں  کی) ایک جماعت ہوجائیں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس بات کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں  کے مال و دولت کی کثرت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں  گے تو ہم ضرور کافروں  کو اتنا سونا چاندی دیدیتے کہ وہ انہیں  پہننے کے علاوہ ان سے اپنے گھروں  کی چھتیں  اور سیڑھیاں  بناتے جن پر وہ چڑھتے اور وہ اپنے گھروں  کے لئے چاندی کے دروازے بناتے اور بیٹھنے کے لئے چاندی کے تخت بناتے جن پر ٹیک لگا کر بیٹھتے اور وہ طرح طرح کی آرائش کرتے، کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں ، یہ بہت جلد زائل ہونے والا ہے اوریہ جو کچھ ہے سب دُنْیَوی زندگی ہی کا سامان ہے جس سے انسان بہت تھوڑا عرصہ فائدہ اٹھا سکے گا اور آخرت تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ان پرہیزگاروں  کے لیے ہے جنہیں  دنیا کی چاہت نہیں ۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۵، ۴/۱۰۵)
کفار کا مال و دولت اور عیش و عشرت دیکھ کر مسلمانوں  کا حال:
	اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہو ا کہ کافروں  کے مال و دولت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر لوگ کافر ہوسکتے ہیں ۔ ا س کی صداقت آج کھلی آنکھوں  سے دیکھی جا سکتی ہے ،گو کہ سبھی کافروں  کا مال و دولت اور عیش و عشرت اس مقام تک نہیں  پہنچا کہ وہ چاندی سے اپنے گھروں  کی تعمیرات شروع کر دیں  لیکن اس وقت جو کچھ ان کے پاس موجود ہے اس کی چمک دمک دیکھ کرکچھ مسلمان اپنا دین چھوڑ چکے ہیں  ،کچھ اس کی تیاری میں  ہیں  اورکچھ مسلمان کہلانے والوں  کا حال یہ ہے کہ وہ کافروں  کی دُنْیَوی ترقی دیکھ کردینِ اسلام سے ناراض دکھائی دیتے اور خود پر کافروں  کے طور طریقے مُسلَّط کئے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے ۔یاد رہے کہ دنیا کا عیش