اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَؕ-نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاؕ-وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ہم نے اُن میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا اور اُن میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے اور تمہارے رب کی رحمت ان کی جمع جتھا سے بہتر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی (بھی) ہم نے ہی تقسیم کی ہے اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندکیا ہے تاکہ ان میں ایک دوسرے کو اپنا خادم بنائے اور تمہارے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں ۔
{اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ: کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ؟} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کفار کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت وہ کفار بانٹتے ہیں کہ ان کی خواہش کے مطابق رسول بنایا جائے اور کیا نبوت کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں کہ وہ جس کو چاہیں دے دیں ؟ جب ایساہر گز نہیں ہے تو یہ کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں ،انہیں ذرا غور کرنا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی بھی ہم نے ہی تقسیم کی ہے اور ان میں سے کسی کو مالدار اورکسی کو فقیر،کسی کو مالک اورکسی کو غلام، کسی کو طاقتور اور کسی کو کمزور ہم نے ہی بنایا ہے، مخلوق میں کوئی ہمارے حکم کو بدلنے اور ہماری تقدیر سے باہر نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا ،تو جب دنیا جیسی قلیل چیز میں کسی کو اعتراض کرنے کی مجال نہیں تو نبوت جیسے منصب ِعالی میں کیا کسی کو دَم مارنے کا موقع ہے؟ ہم جسے چاہتے ہیں غنی کرتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں مخدوم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں خادم بناتے ہیں ، جسے