اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ(۲۴)فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں ۔ نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اُسے نہیں مانتے۔ تو ہم نے اُن سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تووہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقش ِقدم کی ہی پیروی کرنے والے ہیں ۔ نبی نے فرمایا: کیا اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر دین لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ انہوں نے کہا:جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں ۔ تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
{وَ كَذٰلِكَ: اور ایسے ہی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کے علاوہ شرک کی کوئی اوردلیل نہ دے سکنا صرف آپ کی قوم کے کفار کا ہی خاصہ نہیں بلکہ ہم نے آپ سے پہلے جب کسی شہر میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تووہاں کے خوشحال مالداروں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم کی ہی پیروی کرنے والے ہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کی اندھے بن کرپیروی کرناکفار کا پرانامرض ہے اور انہیں اتنی تمیز نہیں کہ کسی کی پیروی کرنے کے لئے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وہ خود سیدھی راہ پر ہو، چنانچہ جب کسی نبی سے فرمایا گیا کہ اپنی قوم کے کفار سے کہیں :کیا تم اپنے