Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
72 - 608
سورۂ فرقان کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ شعراء کی اپنے سے ماقبل سورت ’’فرقان ‘‘کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فرقان کی ابتداء قرآن پاک کی تعظیم سے ہوئی اور سورۂ شعراء کی ابتداء بھی قرآن پاک کی تعظیم سے ہوئی۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فرقان میں  جس ترتیب سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات اِجمالی طور پر بیان کئے گئے اُسی ترتیب سے سورۂ شعراء میں  ان کے واقعات تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ، اورتیسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فرقان کے آخر میں  کفار کی مذمت اور مسلمانوں  کی مدح بیان ہوئی اور سورۂ شعراء کے آخر میں  بھی کفار کی مذمت اور مسلمانوں  کی مدح بیان ہوئی ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے۔ 
طٰسٓمّٓ(۱) تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: یہ آیتیں  ہیں  روشن کتا ب کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: طسم۔ یہ ظاہر کرنے والی کتا ب کی آیتیں  ہیں ۔
{طٰسٓمّٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں  سے ایک حرف ہے اور ا س کی مراد اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی بہتر جانتے ہیں ۔ 
{تِلْكَ: یہ} یعنی اِس سورت کی آیتیں  اُس قرآن کی آیتیں  ہیں  جس کا مُعْجِز یعنی دوسروں  کو مقابلے سے عاجز کر دینے والا نیز اللہ تعالٰی کا کلام ہونا روشن و ظاہر ہے اور جس کا حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہونا واضح ہے۔اگر اس کی یہ شان