سورۃُ الشُعَرَاء
سورۂ شعراء کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ شعراء آخری چار آیتوں کے علاوہ مکیہ ہے،وہ چار آیتیں’’وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ‘‘سے شروع ہوتی ہیں۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 11رکوع، 227 آیتیں ، 1279 کلمے اور5540 حروف ہیں ۔(2)
’’شعراء ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
شعراء، شاعر کی جمع ہے جس کا معنی واضح ہے۔ اس سورت کی آیت نمبر224سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف شاعری کرنے والے مشرکین کی مذمت بیان کی گئی ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ شعراء‘‘ رکھاگیا۔
سورۂ شعراء کی فضیلت:
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالٰی نے مجھے تورات کی جگہ (قرآن پاک کی ابتدائی) سات( لمبی) سورتیں عطا کیں اور انجیل کی جگہ راء ات (یعنی وہ سورتیں) عطا کیں (جن کے شروع میں لفظ ’’ر‘‘ موجود ہے) اور زبور کی جگہ طواسین (یعنی وہ سورتیں جن کے شروع میں ’’طٰسٓمّٓ‘‘ ہے) اور حوامیم (یعنی وہ سورتیں جن کے شروع میں حٰمٓ ہے) کے مابین سورتیں عطا فرمائیں اور مجھے حوامیم اور مُفَصَّل سورتوں کے ذریعے (ان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر) فضیلت دی گئی اور مجھ سے پہلے ان سورتوں کو کسی نبی نے نہیں پڑھا۔(3)
سورۂ شُعراء کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللہ تعالٰی کے واحد و یکتا ہونے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، تفسیر سورۃ الشعراء، ۳/۳۸۱۔
2…خازن، تفسیر سورۃ الشعراء، ۳/۳۸۱-۳۸۲۔
3…کنز العمال، کتاب الاذکار، قسم الاقوال، ۱/۲۸۵، الحدیث: ۲۵۷۸، الجزء الاول۔