Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
60 - 608
کفارہ ہے اور جس نے ان میں  سے کسی حرام کام کو کیا اور اللہ تعالٰی نے (دنیا میں ) ا س کا پردہ رکھا تو (آخرت میں ) اس کا معاملہ اللہ تعالٰی کے سپرد ہے،اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔(1)
یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ(۶۹) اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۷۰)
ترجمۂکنزالایمان: بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں  ذلت سے رہے گا۔ مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں  کی برائیوں  کو اللہ بھلائیوں  سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کے لئے قیامت کے دن عذاب بڑھادیا جائے گا اور ہمیشہ اس میں  ذلت سے رہے گا۔مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں  کی برائیوں  کو اللہ نیکیوں  سے بدل دے گا اور اللہ  بخشنے والا مہربان ہے۔
{یُّضٰعَفْ: بڑھادیا جائے گا۔} یعنی جو شخص شرک کے ساتھ ساتھ ناحق قتل کرنے اور زناکاری وغیرہ گناہوں  کا مُرتکب ہو گا تو وہ قیامت کے دن شرک کے عذاب میں  گرفتار ہوگا اوراس کے ساتھ دیگر گناہوں  کے عذاب میں  بھی مبتلا ہو گا اور یوں  اس کا عذاب بڑھادیاجائے گا اور وہ ہمیشہ اس دگنے عذاب میں  ذلت سے رہے گا۔(2)
{اِلَّا مَنْ تَابَ: مگر جو توبہ کرے۔} یعنی جو شخص شرک،ناحق قتل، زنا اور دیگر کبیرہ گناہوں  سے توبہ کرے، اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے اورتوبہ کے بعد نیک کام کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں  کو اللہ تعالٰی نیکیوں  سے بدل دے گا اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے اور ا س کی بخشش و مہربانی کے آثار میں  سے یہ ہے کہ وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الحدود، باب الحدود کفارات لاہلہا، ص۹۳۹، الحدیث: ۴۱(۱۷۰۹)۔
2…تفسیرکبیر، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۹، ۸/۴۸۴۔