Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
470 - 608
سورۂ لُقمان
سورۂ لقمان کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ لقمان ’’وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ‘‘ سے شروع ہونے والی آیت نمبر27اور28کے علاوہ مکیہ ہے۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	 ا س سورت میں  4رکوع،34آیتیں  ،548 کلمے ، 2110 حروف ہیں ۔(2)
’’لقمان ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	 اس سورئہ مبارکہ کے دوسرے رکوع سے الله عَزَّوَجَلَّ کے بَرگُزیدہ بندے حضرت لقمان حکیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے اسی وجہ سے یہ سورت’’سورۂ لقمان‘‘ کے نام سے مَوسُوم ہوئی ۔
سورۂ لقمان کے مَضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں  الله تعالیٰ اور ا س کی وحدانیّت پر ایمان لانے ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوّت کی تصدیق کرنے، موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن کا اقرار کرنے کے بارے میں  دلائل کے ساتھ کلام کیا گیا ہے۔ اور اس سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں  الله تعالیٰ کی ہدایت کے دستور اورحضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دائمی معجزے قرآنِ پاک کا ذکر کیاگیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں  کا گروہ قرآنِ پاک کی تصدیق کرتا ہے ا س لئے وہ جنت میں  داخل ہو کر کامیاب ہو جائیں  گے اور کافروں  کا گروہ قرآنِ پاک کی آیات کا مذاق اڑاتا اور ان کا انکار کرتا ہے اور اس نے اپنی جہالت اور بیوقوفی کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیا ر کیا تو وہ جہنم کے دائمی دردناک عذاب میں  مبتلا ہو کر نقصان اٹھائیں  گے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، سورۃ لقمان، ص۳۴۵۔
2…خازن، تفسیر سورۃ لقمان، ۳/۴۶۸۔