Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
466 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورجنہیں  علم اور ایمان دیا گیا وہ کہیں  گے:بیشک الله کے لکھے ہوئے میں تم مرنے کے بعد اٹھنے کے دن تک رہے ہو تو یہ مرنے کے بعد اٹھنے کا دن ہے لیکن تم نہ جانتے تھے۔
{وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ: اورجنہیں  علم اور ایمان دیا گیا وہ کہیں  گے۔} یعنی انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، فرشتے اور مومنین اُن کا رد کریں  گے اور فرمائیں  گے کہ تم جھوٹ کہتے ہو۔بے شک جو الله تعالیٰ نے اپنے سابق علم میں  لوحِ محفوظ میں  لکھا ہوا ہے کہ تم مرنے کے بعد اٹھنے کے دن تک وہاں  ٹھہرے ہو اور اب جہاں  تم موجود ہو وہ مرنے کے بعد اٹھنے کا دن یعنی قیامت کا دن ہے جس کاتم دنیا میں  انکار کرتے تھے ،اور تم نہ جانتے تھے کہ یہ حق ہے اور ضرور واقع ہوگا۔ اب تم نے جان لیاکہ وہ دن آگیا اور اس کا آنا حق تھا لیکن ا ب اس وقت کا جاننا تمہیں  کوئی نفع نہ دے گا۔(1)
فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(۵۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو اُ س دن ظالموں  کو نفع نہ دے گی اُن کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ا س دن ظالموں  کوان کا معافی مانگنا نفع نہ دے گا اور نہ ان سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
{فَیَوْمَىٕذٍ: تو ا س دن۔} یعنی قیامت کے دن ظالموں  کوان کا معافی مانگنا کوئی نفع نہ دے گا اور نہ اُن سے یہ کہا جائے گا کہ توبہ کرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرلو جیسا کہ دنیا میں  ان سے توبہ طلب کی جاتی تھی کیونکہ اس وقت توبہ اور طاعت مقبول نہیں ۔(2)
گناہگار مسلمانوں  کے لئے نصیحت :
	اس آیت میں  ان گناہگار مسلمانوں  کے لئے بھی نصیحت ہے کہ جو اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گناہوں  میں  صَرف کر رہے ہیں  اور اُن سے توبہ کی طرف اِن کا دل مائل نہیں  ہو رہا،انہیں  اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اگر توبہ کئے بغیر مر گئے تو آخرت میں  گناہوں  پر پکڑ بھی ہو سکتی ہے اور توبہ کا وقت دنیا کی زندگی ہے ،آخرت میں  توبہ کرنا کچھ کام نہ دے گا، لہٰذا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳/۴۶۷، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۵۶، ص۹۱۳، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۵۷، ۷/۵۹۔