وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ﳔ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍؕ-كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ(۵۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسم کھائیں گے کہ وہ تو صرف ایک گھڑی ہی رہے ہیں ۔ اسی طرح وہ اوندھے جاتے تھے۔
{وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ: اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہو گی ا س دن مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک گھڑی ہی ٹھہرے ہیں یعنی آخرت کو دیکھ کر مجرم کو دنیا یا قبر میں رہنے کی مدت بہت تھوڑی معلوم ہوگی ،اس لئے وہ اس مدت کو ایک گھڑی سے تعبیرکریں گے۔ مزیدفرمایا کہ اسی طرح وہ پھیرے جاتے تھے یعنی ایسے ہی دنیا میں غلط اور باطل باتوں پر جمتے اور حق سے پھرتے تھے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے جیسا کہ اب قبر یا دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کو قسم کھا کر ایک گھڑی بتارہے ہیں ۔ ان کی اس قسم سے الله تعالیٰ انہیں تمام اہلِ مَحشر کے سامنے رسوا کرے گا اور سب دیکھیں گے کہ ایسے مجمعِ عام میں قسم کھا کر ایسا صریح جھوٹ بول رہے ہیں ۔(1)
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ٘-فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۵۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان ملا بے شک تم رہے الله کے لکھے ہوئے میں اُٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اُٹھنے کا لیکن تم نہ جانتے تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۴۶۷، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۵۵، ص۹۱۳، ملتقطاً۔