Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
463 - 608
اور ان کے ایمان نہ لانے پر رنجیدہ نہ ہوں  کیونکہ جن کے دل مرچکے اور ان سے کسی طرح حق بات کو قبول کرنے کی توقُّع نہیں  رہی ،آپ انہیں  حق بات نہیں  سنا سکتے، اسی طرح جو لوگ حق بات سننے سے بہرے ہوں  اور بہرے بھی ایسے کہ پیٹھ دے کر پھر گئے اور ان سے کسی طرح سمجھنے کی اُمید نہیں  تو آپ ان بہروں  کو حق کی کوئی پکار نہیں  سنا سکتے ۔
	 اس آیت سے بعض لوگوں  نے مُردوں  کے نہ سننے پر اِستدلال کیا ہے مگر یہ استدلال صحیح نہیں  کیونکہ یہاں  مردوں  سے مراد موت کا شکار ہونے والے لوگ نہیں  بلکہ مردہ دل کفار مراد ہیں  جن کے دل مرے ہوئے ہیں  جو دُنْیَوی زندگی تو رکھتے ہیں  مگر وعظ ونصیحت سے فائدہ حاصل نہیں  کرتے ،اس لئے انہیں  مُردوں  سے تشبیہ دی گئی کیونکہ مردے عمل کے مقام سے گزر گئے ہوتے ہیں  اور وہ وعظ و نصیحت سے فائدہ حاصل نہیں  کر سکتے۔ لہٰذا اس آیت سے مردوں  کے نہ سننے پر دلیل پیش کرنا درست نہیں  اور بکثرت اَحادیث سے مُردوں  کا سننا اور اپنی قبروں  پر زیارت کیلئے آنے والوں  کو پہچاننا ثابت ہے۔
	نوٹ:اس کے بارے میں  مزید تفصیل سورۂ نمل کی آیت نمبر80اور81کے تحت مذکور تفسیر میں  ملاحظہ فرمائیں ۔
وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْؕ-اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠(۵۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور نہ تم اندھو ں  کو اُن کی گمراہی سے راہ پر لاؤ تم تو اُسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نہ تم اندھو ں  کو ان کی گمراہی سے سیدھا راستہ دکھا سکتے ہو تو تم اسی کو سناسکتے ہو جو ہماری آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں  پھر وہ فرمانبردار ہیں ۔
{وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ: اور نہ تم اندھو ں  کو ان کی گمراہی سے سیدھا راستہ دکھا سکتے ہو۔} یہاں  بھی اندھوں  سے دل کے اندھے مراد ہیں ۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۹۱۲۔