Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
462 - 608
وَ لَىٕنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں  جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں  تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم کوئی ہوابھیجیں  جس سے  وہ کھیتی کو زرد دیکھیں تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں  گے۔
{وَ لَىٕنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا: اور اگر ہم کوئی ہوابھیجیں ۔} اس سے پہلی آیات میں  بیان ہواکہ بارش رک جانے سے لوگ مایوس ہوجاتے ہیں  اور بارش ہوتی دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں  اور اس آیت میں  بیان فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہمیشہ نہیں  رہتی بلکہ اگر ہم کوئی ایسی ہو ابھیجیں  جو کھیتی اور سبزے کے لئے نقصان دِہ ہو،پھر وہ کھیتی کو سرسبز و شاداب ہونے کے بعد زرد دیکھیں  تو ضرور کھیتی زرد ہونے کے بعد ناشکری کرنے لگیں  گے اور پہلی نعمت سے بھی مکر جائیں  گے۔ مراد یہ ہے کہ ان لوگوں  کی حالت یہ ہے کہ جب انہیں  رحمت پہنچتی ہے، رزق ملتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں  اور جب کوئی سختی آتی ہے، کھیتی خراب ہو تی ہے توپہلی نعمتوں  سے بھی مکر جاتے ہیں  حالانکہ انہیں چاہئے تو یہ تھا کہ وہ الله تعالیٰ پر توکّل کرتے اور جب نعمت پہنچتی توشکر بجالاتے اور جب بلا آتی توصبر کرتے اور دعا و اِستغفار میں  مشغول ہوجاتے۔(1)
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: اس لیے کہ تم مُردوں  کو نہیں  سناتے اور نہ بہروں  کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھریں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پس بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سناسکتے اور نہ بہروں  کو پکار سنا سکتے ہو جب وہ پیٹھ دے کر پھر یں ۔
{فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى: پس بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سناسکتے۔} اس آیت میں  الله تعالیٰ اپنے حبیبِ اکرم،سَرورِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کافروں  کی محرومی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۵۱، ۹/۱۰۹، ابو سعود، الروم، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴/۲۸۳، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۵۱، ۷/۵۴، ملتقطاً۔