Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
460 - 608
’’وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: مسلمانوں  کی مدد کرناہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔(1)
اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُ جُ مِنْ خِلٰلِهٖۚ-فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ(۴۸) وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ(۴۹)
ترجمۂکنزالایمان: الله ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں  کہ ابھارتی ہیں  بادل پھر اُسے پھیلا دیتا ہے آسمان میں  جیساچاہے اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے تو تو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکل رہا ہے پھر جب اُسے پہنچاتاہے اپنے بندوں  میں  جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں  مناتے ہیں ۔ اگرچہ اس کے اُتارنے سے پہلے آس توڑے ہوئے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله ہی ہے جو ہواؤں  کو بھیجتا ہے تووہ ہوائیں  بادل ابھارتی ہیں  پھر الله اس بادل کو آسمان میں  جیساچاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور (کبھی) اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے تو تو دیکھتاہے کہ اس کے بیچ میں سے بارش نکلتی ہے پھر جب اپنے بندوں  میں  سے جسے چاہتا ہے اس تک وہ بارش پہنچاتا ہے توجبھی وہ خوش ہوجاتے ہیں ۔ اگرچہ اس بارش کے اتارے جانے سے پہلے وہ بڑے ناامید ہوتے ہیں ۔
{اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ: الله ہی ہے جو ہواؤں  کو بھیجتا ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ الله تعالیٰ ہی اپنی حکمت کے موافق ہواؤں  کو بھیجتا ہے تو وہ ہوائیں  بادل اٹھا کر لاتی ہیں ، پھر الله تعالیٰ اپنی مَشِیَّت کے مطابق کبھی اس بادل کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے کہ ہر طرف بادل چھائے ہوتے ہیں اورکبھی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح السنہ، کتاب البرّ والصلۃ، باب الذبّ عن المسلمین، ۶/۴۹۴، الحدیث: ۳۴۲۲۔