Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
457 - 608
ہوں گے تو وہ اسے قبر میں  دہشت زدہ کریں  گے،اس کی قبر کو تنگ اور اندھیری کر دیں گے اور اسے دہشتوں  ، مصیبتوں  اور عذاب سے نہ بچائیں  گے۔ لہٰذا ہرایک کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرے تاکہ یہ قبر کی طویل اور حشر کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں  اس کے کام آئیں  اور وہ خود کوکفر،گمراہی ،بد مذہبی اور دیگر گناہوں  سے بچائے تاکہ قبر و حشر میں  اپنے برے اعمال کے نقصان سے محفوظ رہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے	اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے
اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گھٹتا، دل اُکتاتا	خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: تا کہ صلہ دے اُنہیں  جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اپنے فضل سے بے شک وہ کافروں  کو دوست نہیں  رکھتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تا کہ الله ان لوگوں  کو اپنے فضل سے جزا عطا فرمائے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ۔بیشک وہ کافروں  کوپسندنہیں  کرتا۔
{لِیَجْزِیَ: تا کہ الله جزا عطا فرمائے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ جولوگ اچھا کام اور نیک عمل کر رہے ہیں  وہ اپنے ہی فائدے کے لئے کر رہے ہیں  تاکہ الله تعالیٰ اپنے فضل سے نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں  کو جزا عطا فرمائے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگو ں  کو اس لئے الگ الگ کر دیا جائے گا تاکہ الله تعالیٰ اپنے فضل سے ان لوگوں  کو صلہ عطا فرمائے جنہوں  نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کئے۔بے شک الله تعالیٰ کافروں  کوپسندنہیں  کرتا بلکہ وہ کافر سے ناراض ہے اور اسے سخت سزا دے گا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قرطبی، الروم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۱۴/۳۲، الجزء الرابع عشر، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۳۴۴، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۷/۴۸، ملتقطاً۔