Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
455 - 608
شرک اور گناہوں  کی وجہ سے ہلاک اور بربادکر دیا گیا تو کفارِ قریش اور دیگر مشرکوں  میں  سے جو اُن کے طریقے کو اختیار کئے ہوئے ہیں  اور اپنے کفر پر قائم ہیں ،یہ بھی ان کی طرح ہلاک اور برباد کر دئیے جا سکتے ہیں ، لہٰذا انہیں  چاہئے کہ الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں  اور اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں ۔(1)
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَىٕذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لئے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے الله کی طرف سے ٹلنا نہیں  اس دن الگ پھٹ جائیں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس دن کے آنے سے پہلے اپنا منہ دینِ مستقیم کیلئے سیدھا کرلو جس دن کو الله کی طرف سے ٹلنا نہیں  ہے۔اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں  گے۔
{فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ: تو اپنا منہ دین ِمستقیم کیلئے سیدھا کرلو۔} اس آیت میں  خطاب نبی کریم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے اور مراد آپ اور آپ کی امت ہے اور معنی یہ ہیں  کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے پہلے دین ِاسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں  ، دین ِاسلام کو پھیلانے میں  مشغول رہیں  اور کافروں  کے ایمان نہ لانے پر غمزدہ نہ ہوں  اورقیامت کا دن ایسا ہے کہ اسے الله تعالیٰ کی طرف سے ٹلنا نہیں  ہے اوراس دن حساب کے بعد لوگ الگ الگ ہو جائیں  گے کہ جنتی جنت کی طرف اور دوزخی دوزخ کی طرف چلے جائیں  گے۔(2)
مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ(۴۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۴۲، ۷/۴۷، ملخصاً۔
2…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۹۱۰، جلالین مع صاوی، الروم، تحت الآیۃ: ۴۳، ۴/۱۵۸۵-۱۵۸۶، ملتقطاً۔