{وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ: اور جو تماللہ کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو۔} یعنی جو لوگ الله تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ اور دیگر صدقات دیتے ہیں کہ اس سے بدلہ لینا مقصود ہو تا ہے نہ نام و نمود تو ان ہی لوگوں کا اجرو ثواب زیادہ ہوگا اورانہیں ایک نیکی کا ثواب دس ُگنا زیادہ دیا جائے گا۔(1)
زکوٰۃ اور صدقات الله تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کیلئے دئیے جائیں :
معلوم ہوا کہ اپنے مال کی زکوٰۃ دی جائے یا دیگر نفلی صدقات نکالے جائیں ،سب میں صرف الله تعالیٰ کی رضا مقصد ہونا چاہئے تاکہ اس پر انہیں کثیراجر و ثواب ملے اوریہ مقصد نہ ہو کہ اس کے بدلے میں زکوٰۃ لینے والا ان کی خوب آؤ بھگت کرے ،ان کا خدمت گار بن کر رہے اور ان کا ہر کام ایک ہی اشارے پر بجالائے ،ہر وقت ان کا احسان مند رہے ، لوگوں میں ان کے نام کا خوب چرچا ہو اور لوگ ان کے صدقات وغیرہ کی کثرت پر تعریفوں کے پل باندھیں ۔ اگر اس مقصد سے زکوٰۃ اور صدقات وغیرہ دئیے تو ثواب ملنا تو دور کی بات الٹا اس کے گناہوں کا میٹر تیز ہوجاتا ہے، لہٰذا زکوٰۃ دی جائے یا صدقات بہر صورت صرف الله تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کے لئے ہواس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہ ہو۔ نیز جو لوگ زکوٰۃ کے حقداروں کو زکوٰۃ اور صدقات وغیرہ دیتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں ،پھر اگر انہیں ان لوگوں سے کوئی ذاتی کام پڑ جائے اور وہ کسی وجہ سے نہ کر پائیں یا کرنے سے انکار کر دیں تو یہ انہیں حق دار ہونے کے باوجود زکوٰۃ اور صدقات وغیرہ دینا بند کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کا ذاتی کام نہیں کر سکے ۔ایسے حضرات اپنے دل کی حالت پر خود ہی غور کر لیں کہ اگر واقعی انہوں نے الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے زکوٰۃ اور صدقات دئیے تھے تو ذاتی کام نہ ہو سکنے کی وجہ سے انہیں زکوٰۃ اور صدقات دینا بند کیوں کر رہے ہیں ؟ ریاکاری بڑا نازک معاملہ ہے ۔ بہت سے لوگ بے تَوَجُّہی میں بھی اس کا شکار ہوتے ہیں لہٰذا ہر شخص کواپنے حال پر غور کرتے رہنا چاہیے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۹، ۷/۴۲، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳/۴۶۵، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۹۰۹، ملتقطاً۔