وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دوکہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ الله کے یہاں نہ بڑھے گی اور جو تم خیرات دو الله کی رضا چاہتے ہوئے تو انھیں کے دونے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورجومال تم (لوگوں کو) دو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے تو وہ الله کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم اللهکی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال) بڑھانے والے ہیں ۔
{ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ: اورجو مال تم لوگوں کودو۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں وہی سود مراد ہے جسے سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر279میں حرام فرمایاگیاہے یعنی تم قرض دے کر جو سود لیتے ہو اور اپنے مالوں میں اضافہ کرتے ہو تو وہ الله تعالیٰ کے نزدیک اضافہ نہیں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں وہ تحفے مراد ہیں جو اس نیت سے دئیے جاتے تھے کہ جسے تحفہ دیا وہ اس سے زیادہ دے گا،چنانچہ مفسرین فرماتے ہیں کہ لوگوں کا دستور تھا کہ وہ دوست اَحباب اور شناسائی رکھنے والوں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے ہدیہ دیتے تھے کہ وہ انہیں اس سے زیادہ دے گا یہ جائز تو ہے لیکن اس پر ثواب نہ ملے گا اور اس میں برکت نہ ہوگی کیونکہ یہ عمل خالصتاً الله تعالیٰ کے لئے نہیں ہوا۔(1)
نیوتا اور تحفہ دینے والوں کے لئے نصیحت:
اس آیت میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو شادی بیاہ وغیرہ پر اپنے عزیز رشتہ داروں یا دوست احباب کو نیوتا اور تحائف وغیرہ دیتے ہیں لیکن اس سے ان کا مقصد الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ یا تو اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ زیادہ دینے پر ان کی خوب تعریف کریں ،یا اس لئے دیتے ہیں کہ خاندان میں ان کی ناک اونچی رہے، یا صرف اس لئے دیتے ہیں کہ انہیں پانچ کے دس ہزار ملیں ،ایسے لوگ ثواب کے مستحق نہیں ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۹، ۷/۴۱۔