Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
449 - 608
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو رشتہ دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو یہ بہتر ہے اُن کے لئے جو الله کی رضا چاہتے ہیں  اور اُنہیں  کا کام بنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو رشتے دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔ یہ ان لوگوں  کیلئے بہتر ہے جو الله کی رضا چاہتے ہیں  اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔
{فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ: تو رشتے دار کو ا س کا حق دو۔} یعنی اے وہ شخص! جسے الله تعالیٰ نے وسیع رزق دیا،تم اپنے رشتے دار کے ساتھ حسن ِسلوک اور احسان کر کے ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو صدقہ دے کر اور مہمان نوازی کرکے اُن کے حق بھی دو۔رشتہ داروں ، مسکینوں  اور مسافرو ں  کے حقوق ادا کرنا ان لوگوں  کیلئے بہتر ہے جو الله تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں  اور الله تعالیٰ سے ثواب کے طالب ہیں  اور وہی لوگ آخرت میں  کامیاب ہونے والے ہیں ۔(1)
آیت ’’فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ‘‘ سے متعلق دو باتیں :
	یہاں  اس آیت سے متعلق دو باتیں  ملاحظہ ہوں ،
(1)…اس آیت سے مَحْرَم رشتہ داروں  کے نَفَقہ کا وُجوب ثابت ہوتا ہے (جبکہ وہ محتاج ہوں )۔(2)
(2)…اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رشتہ دارو ں  سے حسنِ سلوک اور صدقہ و خیرات ،نام و نَمو د اور رسم کی پابندی کی وجہ سے نہیں  بلکہ محض الله تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے وہی ثواب کا مستحق ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۹۰۹، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۸، ۷/۳۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳/۴۶۵، ملتقطاً۔
2…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۹۰۹۔