Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
448 - 608
رزق کا مزہ دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہو جاتے ہیں  اور ا س کی وجہ سے اِتراتے ہیں  اور اگر انہیں  ان کی مَعْصِیَت اور ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تواس وقت وہ الله تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہو جاتے ہیں  اور یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہے کیونکہ مومن کا حال یہ ہے کہ جب اُسے نعمت ملتی ہے تو وہ شکر گزاری کرتا ہے اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو الله تعالیٰ کی رحمت کا اُمیدوار رہتا ہے۔(1)
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا انہوں  نے نہ دیکھا کہ الله رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لئے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لئے چاہے بے شک اس میں  نشانیاں  ہیں  ایمان والوں  کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا انہوں  نے نہ دیکھا کہ الله  رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ فرمادیتا ہے، بیشک اس میں  ایمان والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔
{اَوَ لَمْ یَرَوْا: اور کیا انہوں  نے نہ دیکھا۔} یعنی کیا مشرکوں  نے ا س چیز کا مشاہدہ نہیں  کیا کہ الله تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے رزق وسیع فرما دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق تنگ فرما دیتا ہے۔ رزق کی وسعت میں  حکمت یہ ہے کہ وسیع رزق میں  اس شخص کی بھلائی ہوتی ہے یا ا س کا امتحان مقصود ہوتاہے کہ وہ اس پر الله تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں  اور رزق کی تنگی میں  حکمت یہ ہے کہ اس شخص کے نظام کی درستی تھوڑے رزق میں  ہوتی ہے یااس کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ وہ رزق کی تنگی پر صبر کرتا ہے یا نہیں ۔بے شک رزق کی اس تنگی اور وسعت میں  ایمان والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں  اور وہ اس کے ذریعے الله تعالیٰ کی قدرت کے کمال اور حکمت پر اِستدلال کرتے ہیں ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۹۰۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۴۶۴، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۷، ۷/۳۸، ملخصاً۔