جب الله تعالیٰ انہیں اس تکلیف سے خلاصی عنایت کرکے اور راحت عطا فرماکر اپنے پاس سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تونتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت ان میں سے ایک گروہ عبادت میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے اور ہمارے دئیے ہوئے مال اور رزق کی ناشکری کرنے لگتا ہے ، تو اے کافرو!دنیا کی نعمتوں سے چند روزفائدہ اٹھالو ، عنقریب تم جان لو گے کہ آخرت میں تمہارا کیا حال ہوتا ہے اور اس دنیا طلبی کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے۔(1)
اس سے معلوم ہوا کہ آرام میں الله تعالیٰ کو بھول جانا اور تکلیف میں اسے یاد کرنا کفار کا طریقہ ہے، لہٰذا مسلمانوں کو ا س سے بچنا چاہئے اور غمی، خوشی ہر حال میں الله تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا چاہئے ۔
{اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا: یا کیاہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے۔} یعنی کیا ہم نے مشرکوں پر کوئی حجت یا کوئی کتاب اتاری ہے کہ وہ انہیں ہمارے شریک بتا رہی ہے اور شرک کرنے کا حکم دیتی ہے، ایسا ہر گز نہیں ہے،ان کے پاس اپنے شرک کی نہ کوئی حجت ہے نہ کوئی سند بلکہ وہ کسی بے سند و دلیل ہی ایسا کررہے ہیں ۔(2)
وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَاؕ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں اس پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے بدلہ ا س کا جو اُن کے ہاتھوں نے بھیجا جبھی وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں تواس پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تواس وقت وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔
{وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً: اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں ۔} یعنی جب ہم لوگوں کو تندرستی اور وسعتِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴، ۷/۳۷، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴، ص۹۰۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴، ۳/۴۶۴، ملتقطاً۔
2…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۴۶۴، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۳۴۳، ملتقطاً۔