اختلاف نہیں بلکہ فروعی مسائل میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف بھی نَفسانِیّت کی وجہ سے نہیں بلکہ تحقیق کی بنا پر ہے ۔ البتہ اس آیت میں گمراہ فرقے ضرور داخل ہیں خواہ وہ پرانے زمانے کے ہوں یا نئے زمانے کے۔
وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ(۳۳) لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْؕ-فَتَمَتَّعُوْاٙ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(۳۴)اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں ا س کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ کہ ہمارے دئیے کی ناشکری کریں تو برت لو اب قریب جاننا چاہتے ہو۔ یا ہم نے ان پر کوئی سند اُتاری کہ وہ اُنہیں ہمارے شریک بتا رہی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو ا س کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں پھرجب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تواس وقت ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ تاکہ ہمارے دئیے ہوئے کی ناشکری کریں تو فائدہ اٹھالو تو عنقریب تم جان لو گے۔ یا کیاہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے کہ وہ دلیل انہیں ہمارے شریک بتا رہی ہے۔
{وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ: اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب شرک کرنے والوں کو مرض ، قحط یا اس کے علاوہ اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے ہی پکارتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بت ان کی مصیبت ٹال دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔ پھر