Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
445 - 608
ترجمۂکنزالایمان: اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں  سے نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں  میں سے نہ ہونا۔
{مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ: اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے دین پر قائم رہو اور اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنا چہرہ دین ِاسلام کیلئے سیدھا رکھو اورا س کی مخالفت کرنے سے ڈرو اور نماز کی شرائط اور حقوق کی رعایت کرتے ہوئے وقت پراسے ادا کرو اور ایمان قبول کر لینے کے بعد الله تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو۔(1)
مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًاؕ-كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: ان میں  سے جنہوں  نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ہو گئے گروہ گروہ ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان لوگوں  میں  سے (نہ ہونا) جنہوں  نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیااور خود گروہ گروہ بن گئے۔ ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔
{مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ: ان لوگوں  میں  سے (نہ ہونا) جنہوں  نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔} یعنی ان مشرک لوگوں  میں  سے نہ ہونا جنہوں  نے معبود کے بارے میں  اختلاف کرکے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیااور خود گروہ گروہ بن گئے۔ان میں  سے ہر گروہ اپنے مذہب پر خوش ہے اور اپنے باطل کو حق گمان کرتا ہے۔(2)
	یاد رہے کہ اس آیت کا اسلامی فُقہاء کے اختلاف سے کچھ تعلق نہیں ۔ حنفی ،شافعی ،مالکی اور حنبلی ہونا دین میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۱، ۷/۳۲-۳۳، تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۳۱، ۹/۹۹، ملتقطاً۔
2…جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۳۴۳، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۹۰۸، ملتقطاً۔