Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
430 - 608
پاؤ اور تمہارے آپس میں  محبت اور رحمت رکھی بے شک ا س میں  نشانیاں  ہیں  دھیان کرنے والوں  کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی نشانیوں  سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ بے شک ا س میں  غوروفکر کرنے والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔
{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ: اور اس کی نشانیوں  سے ہے۔} ارشاد فرمایا کہ الله تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں  میں  سے ایک یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے عورتیں  بنائیں  جو (شرعی نکاح کے بعد) تمہاری بیویاں  بنتی ہیں  تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اگر الله تعالیٰ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں  صرف مرد پیدا فرماتا اور عورتوں  کوان کے علاوہ کسی دوسری جنس جیسے جِنّات یا حیوانات سے پیدا فرماتا تو مَردوں  کو عورتوں  سے سکون حاصل نہ ہوتا بلکہ ان میں  نفرت پیدا ہوتی کیونکہ دو مختلف جنسوں  کے افراد میں  ایک دوسرے کی طرف میلان نہیں  ہوتا اور وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل نہیں  کر سکتے،پھر انسانوں  پر الله تعالیٰ کی یہ کمال رحمت ہے کہ مردوں  کے لئے ان کی جنس سے عورتیں  بنانے کے ساتھ ساتھ شوہر اور بیوی کے دمیان محبت اور رحمت رکھی کہ پہلی کسی معرفت اور کسی قرابت کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ہمدردی ہوجاتی ہے۔ بے شک ا ن چیزوں  میں  غوروفکر کرنے والوں  کیلئے الله تعالیٰ کی عظمت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  ہیں  ،اگر وہ ان میں  غور کریں  گے تو انہیں  معلوم ہو جائے گا کہ جس نے دنیا کے نظام کو اس احسن انداز میں  قائم رکھا ہوا ہے صرف وہی عبادت کا مستحق اور کامل قدرت والا ہے۔(1)
 اسلامی معاشرے اور مغربی معاشرے میں  خاندانی نظام میں  اختلاف کی و      جہ سے ہونے والا فرق:
	اسلامی معاشرے میں  خاندانی نظام قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور اس نظام کی عمارت چونکہ مرد اور عورت کے درمیان شوہر اور بیوی کے رشتے کی بنیاد پر ہی کھڑی ہو سکتی ہے ،اس لئے اسلامی معاشرے میں  اس بنیاد کو مضبوط تر بنانے کے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں ، ان میں  سے ایک یہ ہے کہ عورت اور مرد کے ازدواجی رشتے میں  ذہنی اور قلبی سکون اور باہمی ذمہ داریوں  کی تقسیم کو اصل بنیاد بنایا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۹/۹۱-۹۲، ابن کثیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۶/۲۷۸، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۹۰۵، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳/۴۶۱، ملتقطاً۔