پیچھے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ زندہ کوبے جان سے نکالتاہے اور بے جان کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعدزندہ کرتا ہے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے۔
{یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ: وہ زندہ کو مردے سے نکالتاہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ الله تعالیٰ زندہ کوبے جان سے جیسے کہ پرندے کو انڈے سے ، انسان کو نطفے سے اور مومن کو کافر سے نکالتاہے اور بے جان کو زندہ سے جیسے کہ انڈے کو پرندے سے ،نطفے کو انسان سے اورکافر کو مومن سے نکالتا ہے اور زمین کو خشک ہوجانے کے بعد بارش برسا کر اور اس سے سبزہ اُگا کرزندہ کرتا ہے اور ا ن چیزوں کو نکالنے کی طرح تم بھی (قیامت کے دن) قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے حساب کے لئے نکالے جاؤ گے۔(1)
سورہِ روم کی آیت نمبر17،18،19 کی فضیلت:
حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے صبح کے وقت یہ کہہ دیا: ’’فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ(۱۷)وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ(۱۸)یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ‘‘ تو اُس دن میں جو نیکی ا س سے چھوٹ گئی اس کا ثواب پالے گا اور جو شام کے وقت یہ کہہ دے تو اس رات میں جو نیکی اس سے چھوٹ گئی اس کا ثواب پا لے گا ۔(2)
مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’نیکی چھوٹ جانے سے مراد نوافل نیکیاں چھوٹ جانا ہیں یا فرائض عبادات میں نقصان (یعنی کمی) رہ جانا ہے، یعنی ر ب تعالیٰ اس آیتِ کریمہ کی برکت سے بہت سی نفلی نیکیوں کا اجر عطا فرمائے گا، اور اگر آج دن رات کے فرائض میں کچھ نقصان واقع ہوگیا ہوگا تو رب تعالیٰ نقصان پورا فرمادے گا۔ اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام فرائض وواجبات چھوڑ دو صرف یہ ہی آیت صبح شام پڑھ لیا کرو۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۹۰۴، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۴۶۱، ملتقطاً۔
2…ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقول اذا اصبح، ۴/۴۱۴، الحدیث: ۵۰۷۶۔
3…مراٰۃ المناجیح، کتاب الدعوات، باب ما یقول عند الصباح والمساء والمنام، الفصل الاول، ۴/۳۳-۳۴۔