Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
306 - 608
ترجمۂکنزالایمان: اور جو کچھ چیز تمہیں  دی گئی ہے وہ دنیوی زندگی کا برتاوا اور اس کا سنگار ہے اور جو الله کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا تو کیا تمہیں  عقل نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے لوگو!) جو کچھ چیز تمہیں  دی گئی ہے تو وہ دنیوی زندگی کا سازو سامان اور اس کی زینت ہے اور جو (ثواب) الله کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والاہے تو کیا تم سمجھتے نہیں  ؟
{وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ: اور (اے لوگو!) جو کچھ چیز تمہیں  دی گئی ہے۔} یہاں  بطورِ خاص کفارِ مکہ سے اور عمومی طور پر تمام لوگوں  سے فرمایا گیا کہ اے لوگو! جو کچھ چیز تمہیں  دی گئی ہے تو وہ دُنْیَوی زندگی کا سازو سامان اور اس کی زینت ہے جس کی بقا بہت تھوڑی اور جس نے آخر کار فنا ہونا ہے اور جو ثواب اور آخرت کے مَنافع الله تعالیٰ کے پاس ہیں  وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والے ہیں  کیونکہ یہ تمام پریشانیوں  سے خالی اور کبھی ختم نہ ہونے والے ہیں ، تو کیا تم میں  عقل نہیں  کہ اتنی بات سمجھ سکو کہ جو چیزباقی رہنے والی ہے وہ فنا ہو جانے والی سے بہتر ہے اور تم بہتر چیز کو اختیار کر سکو اورا سے ترجیح دو جو ہمیشہ باقی رہے گی اور اس کی نعمتیں  کبھی ختم نہ ہوں  گی۔(1)
آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والا نادان ہے:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ جو شخص دُنْیَوی سازوسامان،عیش وعشرت اور زیب وزینت کو اُخروی نعمتوں  اور آسائشوں  پر ترجیح دے وہ بے عقل اور نادان ہے کیونکہ وہ عارضی اور ختم ہو جانے والی چیز کو ا س پر ترجیح دے رہا ہے جو ہمیشہ رہنے والی اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے ۔ایسے شخص کے لئے درج ذیل آیات میں  بڑی عبرت ہے جو اصل کے اعتبار سے تو کفار کیلئے ہیں  لیکن اپنے کئی پہلوؤں  کے اعتبار سے مسلمانوں  کیلئے بھی درسِ نصیحت و عبرت ہیں ، چنانچہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں  انہیں  ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں  گے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قرطبی، القصص،تحت الآیۃ: ۶۰، ۷/۲۲۷، الجزء الثالث عشر، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۸۷۶، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۶۰، ۳/۴۳۷-۴۳۸، تفسیرطبری، القصص، تحت الآیۃ: ۶۰، ۱۰/۹۱، ملتقطاً۔