Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
274 - 608
پر بھروسہ کرنے کے لئے اِنْ شَآئَ الله فرمایا۔(1)
	سورہ ِ قصص کی اِس آیت سے چند چیزیں  معلوم ہوئیں  ، یہ کہ اگرچہ سنت یہ ہے کہ پیغامِ نکاح لڑکے کی طرف سے ہو لیکن یہ بھی جائز ہے کہ لڑکی والوں  کی طرف سے ہو۔ مزید یہ کہ لڑکی کے لئے مالدار لڑکا تلاش کرنے کی بجائے دیندار اور شریف لڑکا تلاش کیا جائے۔ جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مسافر تھے، مالدار نہ تھے، مگر آپ کی دینداری اور شرافت ملاحظہ فرما کر حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی صاحبزادی کا نکاح آپ سے کردیا۔
	صوفیاءِ کرام فرماتے ہیں  کہ بظاہر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بکریاں  چروانا تھا ، مگر درحقیقت ان کو اپنی صحبت ِپاک میں  رکھ کر کَلِیْمُ الله بننے کی صلاحیت پیدا کرنا تھا،لہٰذا یہ آیت صوفیائِ کرام کے چِلّوں  اور مرشد کے گھر رہ کر ان کی خدمت کرنے کی بڑی دلیل ہے۔
قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَؕ-اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا میں  ان دونوں  میں  جو میعاد پوری کردوں  تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں  اور ہمارے اس کہے پر الله کا ذمہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے جواب دیا: یہ میرے اور آپ کے درمیان (معاہدہ طے) ہے۔ میں  ان دونوں  میں  سے جو بھی مدت پوری کردوں  تو مجھ پر کوئی زیادتی نہیں  ہوگی اور ہماری اس گفتگو پر الله نگہبان ہے۔
{قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ:  حضرت موسیٰ نے جواب دیا: یہ میرے اور آپ کے درمیان ہے۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب دیا’’میرے اور آپ کے درمیان یہ معاہدہ طے ہے اور ہم دونوں  ا س معاہدے کی پوری طرح پاسداری کریں  گے البتہ جب میں  8 یا 10 سال دونوں  میں  سے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بغوی، القصص، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۳/۳۸۰، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ص۸۶۷-۸۶۸، ملتقطاً۔