جائیے۔ یہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پردہ کے اہتمام کے لئے فرمایا اور اس طرح تشریف لائے ۔جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچے تو کھانا حاضر تھا، حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’بیٹھئے کھانا کھائیے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کی یہ بات منظور نہ کی اور فرمایا’’میں الله تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’کھانا نہ کھانے کی کیا وجہ ہے، کیا آپ کو بھوک نہیں ہے؟ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ کھانا میرے اُس عمل کا عِوَض نہ ہو جائے جو میں نے آپ کے جانوروں کو پانی پلا کر انجام دیا ہے، کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں کہ نیک عمل پر عوض لینا قبول نہیں کرتے۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اے جوان! ایسا نہیں ہے، یہ کھانا آپ کے عمل کے عوض میں نہیں بلکہ میری اور میرے آباؤ اَجداد کی عادت ہے کہ ہم مہمان نوازی کیا کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں ۔یہ سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بیٹھ گئے اور آپ نے کھانا تناول فرمایا اور ا س کے بعد تمام واقعات و احوال جو فرعون کے ساتھ گزرے تھے، اپنی ولادت شریف سے لے کر قبطی کے قتل اور فرعونیوں کے آپ کے درپے جان ہونے تک ، سب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بیان کر دیئے ۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’فرعون اور فرعونیوں سے ڈریں نہیں ، اب آپ ظالموں سے نجات پاچکے ہیں کیونکہ یہاں مدین میں فرعون کی حکومت و سلطنت نہیں ۔(1)
قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ٘-اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ(۲۶)قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍۚ-فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَۚ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَؕ-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: ان میں کی ایک بولی اے میرے باپ ان کو نوکر رکھ لو بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور امانت دار ہو۔ کہا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۴۲۹-۴۳۰، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۲۴-۲۵، ص۸۶۶-۸۶۷، ملتقطاً۔