Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
22 - 608
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرالیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رسول نے عرض کی: اے میرے رب!میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل بنا لیاہے۔
{وَ قَالَ الرَّسُوْلُ: اور رسول نے عرض کی۔} جب کفار کے اعتراضات اور طعن و تشنیع حد سے زیادہ ہو گئے تو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  عرض کی: ’’ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑ دینے کے قابل چیز بنا لیاہے کہ کسی نے اس کو جادو کہا، کسی نے شعر اور یہ لوگ قرآن مجید پر ایمان لانے سے محروم رہے۔(1)
	اس آیت میں  چھوڑنے سے اصل مراد تواس پر ایمان نہ لانا ہے۔ لیکن چھوڑنے کی اس کے علاوہ بھی صورتیں  ہیں  لہٰذا قرآن مجید کے حوالے سے مسلمان کاحال ایسا نہیں  ہونا چاہئے جس سے یہ لگے کہ اس نے قرآن مجید کو چھوڑ رکھا ہے، بلکہ اسے چاہئے کہ روزانہ تلاوتِ قرآن کرے، قرآن مجید کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ان میں  غورو تَدَبُّر کیاکرے، نیز اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں  جو احکامات دیئے ہیں  ان پر عمل کرے اور جن کاموں  سے منع کیا ہے ان سے باز رہے تاکہ وہ قرآن مجید کو عملی طور پر چھوڑ رکھنے والے لوگوں  میں  شامل نہ ہو۔
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَؕ-وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنادیئے تھے مجرم لوگ اور تمہارا رب کافی ہے ہدایت کرنے اور مدد دینے کو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۰، ۸/۴۵۵، ملخصاً۔