Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
209 - 608
ضروری نہیں  لہٰذا سورج کی پوجا کو ملکہ بلقیس جیسے درست سمجھتی آرہی تھی وہ حقیقت میں  ویسی درست نہیں  بلکہ مکمل طور پر خلاف ِ حقیقت و خلافِ حق تھی۔ 
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ  کو پوجو تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے جھگڑا کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو تو اسی وقت وہ جھگڑا کرتے ہوئے دو گروہ بن گئے۔
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ: اور بیشک ہم نے بھیجا۔} یہاں  سے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے اوراس واقعے کی بعض تفصیلات اس سے پہلے سورۂ اَعراف، آیت نمبر73تا79،سورۂ ہود، آیت نمبر 61 تا 68،سورۂ شعراء، آیت نمبر141تا159میں  گزر چکی ہیں ۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے قومِ ثمود کی طرف ان کے ہم قوم حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ پیغام دے کر بھیجاکہ اے لوگو! تم اللہ تعالٰی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ تو وہ اسی وقت جھگڑا کرتے ہوئے دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آیا اورایک گروہ نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اوران میں  سے ہر گروہ اپنے آپ کوہی حق پر کہتا تھا۔(1)
	نوٹ:اس جھگڑے کی تفصیل سور ہ ٔاَعراف کی آیت نمبر 75میں  بیان ہو چکی کی ہے۔
قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِۚ-لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۸۴۹، ملخصاً۔