Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
193 - 608
اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِ جُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ(۲۵)اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر عرض کی کہ میں  وہ بات دیکھ آیا ہوں  جو حضور نے نہ دیکھی اور میں  شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔میں  نے ایک عورت دیکھی کہ ان پر بادشاہی کررہی ہے اور اسے ہر چیز میں  سے ملا ہے اور اس کا بڑا تخت ہے۔ میں  نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں  اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں  سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تو وہ راہ نہیں  پاتے۔ کیوں  نہیں  سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں  اور زمین کی چھپی چیزیں  اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں  وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکرعرض کی: کہ میں  وہ بات دیکھ کر آیا ہوں  جو آپ نے نہ دیکھی اور میں  ملک ِسبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔ میں  نے ایک عورت دیکھی جو لوگوں  پر بادشاہی کررہی ہے اور اسے ہر چیز میں  سے ملا ہے اور اس کا ایک بہت بڑا تخت ہے۔ میں  نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں  اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں  اچھے بنادئیے تو انہیں  سیدھی راہ سے روک دیا تو وہ سیدھا راستہ نہیں  پاتے۔ (شیطان نے انہیں  روک دیا)تاکہ وہ اس اللہ کو سجدہ نہ کریں  جو آسمانوں  اور زمین میں  چھپی ہوئی چیزوں  کو نکالتا ہے اورجو کچھ تم چھپاتے ہو اور جوظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں  وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔
{فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ: تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا۔} ا س آیت اورا س کے بعد والی چار آیات میں  اِس واقعے کا جو حصہ بیان ہوا ا س کا خلاصہ یہ ہے کہ ہدہدزیادہ دیر تک غیر حاضر نہ رہا بلکہ جلد ہی حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دربار