Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
191 - 608
کی : اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے توفیق دے کہ میں  تیرے اس احسان کا شکر اداکروں  جو تو نے نبوت، ملک اور علم عطا فرما کر مجھ پر اور میرے ماں  باپ پر کیا اورمجھے توفیق دے کہ میں  بقیہ زندگی میں  بھی وہ نیک کام کرو ں  جس پر تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں  کے زمرے میں  شامل کر جو تیرے خاص قرب کے لائق ہیں ۔ خاص قرب کے لائق بندوں  سے مراد اَنبیاء ومُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِکرام  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ ہیں ۔(1)
وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ﳲ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ(۲۰)لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور پرندوں  کا جائزہ لیا تو بولا مجھے کیا ہوا کہ میں  ہد ہد کو نہیں  دیکھتا یا وہ واقعی حاضر نہیں ۔ ضرور میں  اسے سخت عذاب کرو ں  گا یا ذبح کردوں  گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سلیمان نے پرندوں  کا جائزہ لیا توفرمایا:مجھے کیا ہوا کہ میں  ہد ہد کو نہیں  دیکھ رہا یا وہ واقعی غیر حاضروں  میں  سے ہے۔ میں  ضرور ضروراسے سخت سزا دوں  گایا اسے ذبح کردوں  گا یا وہ کوئی واضح دلیل میرے پاس لائے۔
{وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ: اور پرندوں  کا جائزہ لیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  سے اسی سفر کے دوران پیش آنے والا ایک اور واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک جگہ پرندوں  کا جائزہ لیا تو فرمایا: مجھے کیا ہوا کہ میں  ہد ہد کو یہاں  نہیں  دیکھ رہا یا وہ واقعی غیر حاضروں  میں  سے ہے۔ میں  غیر حاضری کی وجہ سے اسے سخت سزا دوں  گا یا ذبح کردوں  گا۔ سخت سزا سے مراد اس کے پر اُکھاڑ کر یا اسے اس کے پیاروں  سے جدا کرکے یا اس کو اس کے ساتھیوں  کا خادم بنا کر یا اُس کو غیر جانوروں  کے ساتھ قید کرنے کی صورت میں  سزا دینا ہے۔ البتہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید یہ فرمایا کہ ہدہد کو سزا دی جائے گی مگر یہ کہ وہ اپنی غیرحاضری کی کوئی معقول دلیل میرے پاس لائے جس سے اس کی معذوری ظاہر ہو۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۴۰۵، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۸۴۲، ملتقطاً۔
2…جمل، النمل، تحت الآیۃ: ۲۰، ۵/۴۳۱، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ص۸۴۲، ملتقطاً۔