کیا جا سکا۔ اللہ تعالٰی سب مسلمانوں کو اس حرام کاری سے محفوظ رکھے، اٰمین۔
كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــٴَـیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۷۶)
ترجمۂکنزالایمان: بَن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اَیکہ (جنگل) والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
{كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــٴَـیْكَةِ: اَیکہ (جنگل) والوں نے جھٹلایا۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔اس آیت میں جس جنگل کا ذکر ہوا یہ مَدیَن شہر کے قریب تھا اوراس میں بہت سے درخت اور جھاڑیاں تھیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اہلِ مدین کی طرح اُن جنگل والوں کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھااور یہ لوگ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم سے تعلق نہ رکھتے تھے۔(1)
اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۷۷) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۷۸) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۷۹) وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۱۸۰)
ترجمۂکنزالایمان: جب ان سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں ۔ بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔اور میں اس پر کچھ تم سے اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ص۳۱۵، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ص۸۲۹، ملتقطاً۔