میں وطی کرے۔(1)
{قَالُوْا: انہوں نے کہا۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحت کے جواب میں ان لوگوں نے کہا اے لوط!اگر تم نصیحت کرنے اور اس فعل کو برا کہنے سے بازنہ آئے تو ضرور ا س شہر سے نکال دئیے جاؤ گے اور تمہیں یہاں رہنے نہ دیا جائے گا۔(2)
قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ(۱۶۸) رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ(۱۶۹)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا میں تمہارے کام سے بیزار ہوں ۔ اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوط نے فرمایا: میں تمہارے کام سے شدید نفرت کرنے والوں میں سے ہوں ۔ اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے اعمال سے محفوظ رکھ۔
{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’میں تمہارے کام سے بیزار اور اس سے شدید نفرت کرنے والوں میں سے ہوں اور مجھے اس سے شدید دشمنی ہے۔ پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے اعمال پر آنے والے عذاب سے محفوظ رکھ۔(3)
فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ(۱۷۰) اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ(۱۷۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی۔ مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی کراہیۃ اتیان النساء فی ادبارہنّ، ۲/۳۸۸، الحدیث: ۱۱۶۸۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۷، ص۸۲۹۔
3…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۸-۱۶۹، ۳/۳۹۴، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۸-۱۶۹، ص۸۲۹، ملتقطاً۔